PhotographySocial

تولی پیر جنت کا اک نمونہ

تولی پیر سطح سمندر سے 9000فٹ کی بلندی پر واقع ھے یہ ضلع پونچھ کی تحصیل راولاکوٹ کی یونین کونسل علی سوجل کا سنگم ھے تاریخی اعتبار سے اس کی منفرد حثیت ھے دنیا کے راجے اور ماراجے ھر دور میں یہاں آتے رھے،، یہ امیرکبیر شاہ ہمدان کی بیٹھک ھے تاریح سے پتا چلتا ھیکہ شاہ ھمدان تبلیغ کے سلسلے میں جب سرینگر سے پونچھ جایا کرتے تھے تو ان کا بیسیرا تولی پیر ھوتا تھا اور بزرگوں سے سنا کہ شاہ ھمدان کو تولی پیر سے بہت پیار تھا یوں انہی کی وجہ سے اس کا نام تولی پیر پڑھا،
تولی پیر جو ھمیشہ سے سیاحوں کلئے ایک دلکش منظر رہا وہاں پر یہاں کے حکمران اس سے اتنے ہی بے خبر رھے ھر حکمران یہاں آیا تو ضرور لیکن نہ جانے کیوں سیاحت کو فروغ نہ دیا گیا اس متنازعہ خطے کے اندر لوگوں کو معاشی طور پر پیچھے رکھنا اور سیاحت کو فروغ نہ دینا شاید حکومتی پالیسی یا پھر حکومت کے آقائوں کی مرضی ھے بہر حال،،،
تولی پیر قدرت کا وہ شہکار ھے جسے دیکھ کر اس اللہ کی واحدانیت کا یقین ھو جا تا ھے اور جو اس کی واحدانیت کو نہی مانتا وہ بھی اتنی بلندی پر تولی پیر کے اس حسین گرانڈ کے درمیاں میں پانی نکلتے ھوئے دیکھتا ھے تو کہنے پہ مجبور ھو جاتا اللہ اکبر،،
تولی کے مشرق میں عباسپور اورمقبوضہ کشمیر کا پونچھ شہر نظر آتا ھے اور مغرب میں ضلع باغ اور گنگا چوٹی ھے جب کے شمال میں وادئ پرل کا حسین منظر ھے جب کے جنوب میں شیرو ٹھارہ درہ جاجی پیر اور کوہ ہمالیہ کے سلسلے ھیں
تولی پیر پر سیاحوں کے لئیے کوئی انتظام نہیں تولی پیر روڈ گھنڈرات کا ایک منظر ھے اب تو شاید موت کا منظر ھے ھر سال ایکسیڈنٹ کی وجہ سے قیمتی جانیں ضیاء ھوتی ھیں لیکن حکمران بد مست ہاتھی ھیں جو چاپلوسی میں مگن ھییں ہھاں پارکنک کا بھی کوئی حاطر حا بدو بست نہیں لوگ میلوں دور گاڑیاں گھڑی کر کے پیدل آتے ھیں پر یہاں پر چنگی ٹیکس لگا دیا گیا ھے ایسے حکمران بے شرم ہی نہیں بے غیرت بھی ھوتے ھیں جو روڈ تو بنا نہیں پاتے پر ٹیکس وصول کرتے ھیں ،
تولی پیر جنت کا اک نمونہ ھے اس کی صفائی کا خیال رکھنا ہر باذوق انسان کا حق ھے

Comments

comments

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Close
Close